ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مشرقی لیبیا کی پارلیمان نے مصر کو فوجی مداخلت کی اجازت دے دی

مشرقی لیبیا کی پارلیمان نے مصر کو فوجی مداخلت کی اجازت دے دی

Wed, 15 Jul 2020 22:44:00    S.O. News Service

 طرابلس،15/جولائی(آئی این ایس انڈیا) خانہ جنگی سے متاثرہ ملک لیبیا میں صورتِ مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے کیوں کہ ملک کے مشرقی علاقوں پر حکومت کرنے والے کمانڈر حفتر کی حمایت یافتہ پارلیمان نے مصر کو براہِ راست فوجی مداخلت کی منظوری دے دی ہے۔

لیبیا کے مشرقی علاقوں کی پارلیمان کا یہ اقدام طرابلس میں قائم گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ (جی این اے) کی حکومت جسے اقوامِ متحدہ کی تائید بھی حاصل ہے، کے لیے ترکی کی حمایت کا جواب تصور کیا جا رہا ہے۔

پیر کی رات پارلیمان سے منظور ہونے والی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ مصر کی فوج کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ مصر اور لیبیا کے لیے کسی بھی خطرے کو محسوس کرے تو براہِ راست مداخلت کر سکتی ہے۔

قرارداد میں ترکی پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ طرابلس میں قائم حکومت کی حمایت کرکے لیبیا میں مداخلت اور اس پر قبضہ کر رہا ہے۔

مصر کے صدر جنرل (ر) عبد الفتح السیسی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اگر جی این اے کی حامی فورسز نے لیبیا کے اہمیت کے حامل شہر سِرت کی جانب پیش قدمی کی تو مصر لیبیا میں براہِ راست فوجی مداخلت کرے گا۔

مصر کی فوج نے بھی حالیہ ہفتوں میں اسپیشل فورسز اور نیوی کی مشترکہ مشقیں کی ہیں۔ فوج نے ان مشقوں کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے لیے اہم قرار دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی لیبیا میں تسلیم شدہ حکومت (جی این اے) نے مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کی لیبیا میں فوجی مداخلت کی تنبیہ کی مذمت کرتے ہوئے ایسے کسی بھی اقدام کو 'اعلانِ جنگ' قرار دیا تھا۔

جی این اے کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ عبدالفتح السیسی کی جانب سے ملک میں براہِ راست مداخلت یا باغی رہنما، مسلح ملیشیا یا کرائے کے فوجیوں کی حمایت کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہو گی۔

طرابلس حکومت کے مرکزی بینک کو تیل کی برآمد کی بندش کی وجہ سے چھ ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تیل کی برآمد رواں سال کے شروع سے بند ہے۔ بندش سے پہلے لیبیا کی تیل کی روزانہ پیداوار 12 لاکھ بیرل تھی۔


Share: